صفحات

Wednesday, 17 August 2022

جو قلب و نظر میں سمایا مدینہ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جو قلب و نظر میں سمایا مدینہ

چلے جس طرف ہم تو آیا مدینہ

وہیں جیسے جنت کا در کُھل گیا ہے

ذرا جو تصور میں آیا مدینہ

جو دنیا نے رنگ اپنے مجھ کو دکھائے

تو پیشِ نظر جگمگایا مدینہ

مدینے کو دیکھا تو ہم مسکرائے

ہمیں دیکھ کر مسکرایا مدینہ

درود اسؐ پہ جو ہے مدینے کا والی

سلام اسؐ پہ جس نے بسایا مدینہ

جگا دے ہمارا مقدر بھی آقاﷺ

دِکھا دے ہمیں بھی خدایا مدینہ

جب آثار دیکھے تو لب یہ پکارے

وہ آیا مدینہ،۔۔ وہ آیا مدینہ

زمانے کو تہذیبِ نَو بخش دی ہے

کہ یثرب کو اسؐ نے بنایا مدینہ

صبا پیروئ محمدﷺ یہی ہے

چلے ہم جو مکے سے آیا مدینہ


صبا اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment