ہمارے لہو کو عادت ہے
موسم نہیں دیکھتا، محفل نہیں دیکھتا
زندگی کے جشن شروع کر دیتا ہے
سُولی کے گیت چھیڑ دیتا ہے
شبد ہیں کہ پتھر پر بہہ بہہ کر گھِس جاتے ہیں
لہو ہے کہ تب بھی گاتا ہے
ذرا سوچو کہ رُوٹھی سرد راتوں کو کون منائے
آدھے پَلوں کو ہتھیلیوں پر کون کھیلائے
لہو ہے جو ہر بار دھاروں کے ہونٹ چُومتا ہے
لہو تاریخ کی دیوار کو پھلانگ جاتا ہے
یہ جشن، یہ گیت کسی کو بہت ہے
جو کل رات ہمارے لہو کے خاموش دریا میں
تیرنے کی مشق کرتے ہیں
پاش
اوتار سنگھ سندھو
No comments:
Post a Comment