اس کو نظر ہٹا کے اگر دیکھنا ہوا
کیسے ملے گا وقت مجھے بھاگتا ہوا
گھڑیوں کی بات چھوڑ کہ گھڑیاں تو سخت ہیں
رک جائے نہ یہ دل بھی اسے روکتا ہوا
یہ کائنات پھر سے مِری آگہی پہ کھول
اک حرفِ التجا ہے مِری ضد بنا ہوا
یہ آئینہ کہیں مِرا چہرہ نہ چھین لے
سو حالتوں میں ایک ہی ڈر ہے لگا ہوا
یہ آخری خلش تو مِری جان لے گئی
تجھ سے ملا نہیں تھا کہ میں خود سے جدا ہوا
اس دورِ بے ہنر میں تو کر شکر اے ظفر
تجھ کو عطا ہوا ہے قلم بولتا ہوا
ظفر اقبال(چونیاں والے)
No comments:
Post a Comment