عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسینؑ
وہ جو کربلا کا شہیدؑ ہے مِرا دل اُسی کا مرید ہے
جو پیامِ حق کی نوید ہے، مِرا دل اسی کا مرید ہے
جسے رہبری پہ عبور ہے شہِ دیںؐ کےدل کا سُرور ہے
وہ کہ جس کا ذکر مفید ہے، مِرا دل اسی کا مرید ہے
یہی مومنوں کا خطاب ہے، وہ جو شہرِ علم کا باب ہے
اسی باب کی جو کلید ہے، مِرا دل اسی کا مرید ہے
جو عروجِ دینِ رسولؐ ہے نہ شکست جس کو قبول ہے
جو قضائے شمر و یزید ہے، مِرا دل اسی کا مرید ہے
شہِ کربلاؑ کی جو دید ہو، کبھی صائم اپنی یوں عید ہو
یہ مِری تمنا شدید ہے،۔ مِرا دل اسی کا مرید ہے
صائم علوی
No comments:
Post a Comment