Tuesday, 16 August 2022

وہ جو کربلا کا شہید ہے مرا دل اسی کا مرید ہے

  عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسینؑ


وہ جو کربلا کا شہیدؑ ہے مِرا دل اُسی کا مرید ہے

جو پیامِ حق کی نوید ہے، مِرا دل اسی کا مرید ہے

جسے رہبری پہ عبور ہے شہِ دیںؐ کےدل کا سُرور ہے

وہ کہ جس کا ذکر مفید ہے، مِرا دل اسی کا مرید ہے

یہی مومنوں کا خطاب ہے، وہ جو شہرِ علم کا باب ہے

اسی باب کی جو کلید ہے، مِرا دل اسی کا مرید ہے

جو عروجِ دینِ رسولؐ ہے نہ شکست جس کو قبول ہے

جو قضائے شمر و یزید ہے، مِرا دل اسی کا مرید ہے

شہِ کربلاؑ کی جو دید ہو، کبھی صائم اپنی یوں عید ہو

یہ مِری تمنا شدید ہے،۔ مِرا دل اسی کا مرید ہے


صائم علوی

No comments:

Post a Comment