یوں تو ہر راہگزر میں منزل ہے
کم ہیں جن کی نظر میں منزل ہے
خود سے ملتی نہیں کبھی آ کر
جانے کس کے اثر میں منزل ہے
اب مجھے آسمان دور نہیں
اب مِرے بال و پر میں منزل ہے
اے دلِ گم شدہ مسافر! سُن
اب پلٹ آ کہ گھر میں منزل ہے
راستہ کھل گیا دل و جاں کا
اشک ہیں، چشمِ تر میں منزل ہے
عشق چاہا تو ہے ظفر تُو نے
یہ بتا، اس سفر میں منزل ہے؟
ظفر اقبال(چونیاں والے)
No comments:
Post a Comment