صفحات

Wednesday, 17 August 2022

تمہاری بے حسی ہے اور تم ہو

 تمہاری بے حِسی ہے اور تم ہو

میری دیوانگی ہے اور میں ہوں

کسی کروٹ نہیں آرام جی کو

عجب اک کھلبلی ہے اور میں ہوں

مسلسل اب در و دیوار جاں سے

اداسی جھانکتی ہے اور میں ہوں

وہی سب کچھ ہے لیکن تم نہیں ہو

وہی کھِڑکی کُھلی ہے اور میں ہوں

تمہاری یاد مجھ سے کھو گئی تھی

مگر پھر مل گئی ہے اور میں ہوں

میں غیروں کو بھلا کیسے بتاؤں

یہ قصہ خانگی ہے اور میں ہوں

خدا کی آنکھ سے تکتا ہوں دنیا

یہ دنیا لُٹ رہی ہے اور میں ہوں

تھی یادوں کی جو اک قندیل روشن

وہ کب کی بُجھ چکی ہے اور میں ہوں


مرزا رضی الرحمٰن

No comments:

Post a Comment