صفحات

Wednesday, 17 August 2022

کبیر دھاگہ پریم کا مت توڑو جھٹکائے

 کبیر دھاگہ پریم کا مت توڑو جھٹکائے

ٹُوٹے تو پھر نہ جُڑے، جُڑے تو گانٹھ پڑ جائے

سُکھ کے ماتھے سِل پڑے جو نام ہردے سی جائے

بلہاری میں دُکھ کے جو پل پل نام رٹائے

سائیں! اتنا دیجئے جا میں کُٹمب سمائے

میں بھی بھوکا نہ رہوں سادھو نہ بھوکا جائے

سات سمند کی لسی کروں، لیکھن سب بن رائے

دھرتی سب کا گد کروں، تو ہری گن نہ لکھیا جائے


کبیر داس

No comments:

Post a Comment