صفحات

Wednesday, 17 August 2022

جانے پھر تم سے ملاقات کبھی ہو کہ نہ ہو

 جانے پھر تم سے ملاقات کبھی ہو کہ نہ ہو 

کُھل کے دکھ درد کی کچھ بات کبھی ہو کہ نہ ہو 

پھر ہجومِ غم و جذبات کبھی ہو کہ نہ ہو 

تم سے کہنے کو کوئی بات کبھی ہو کہ نہ ہو 

آج تو ایک ہی کشتی میں ہیں منجدھار میں ہم 

پھر یہ مجبورئ حالات کبھی ہو کہ نہ ہو 

عہدِ ماضی کے فسانے ہی سُنا لیں تم کو 

اتنی خاموش کوئی رات کبھی ہو کہ نہ ہو 

جو جلاتا ہے مِرے غم کے اندھیروں میں چراغ 

میرے ہاتھوں میں وہی ہاتھ کبھی ہو کہ نہ ہو


بی ایس جین جوہر

No comments:

Post a Comment