اسے رب نے بنایا ہے یہ جسم اپنا نہیں ہے
جسے اپنا سمجھ بیٹھی ہو وہ اپنا نہیں ہے
نہ جانے کب کہاں پہ کہیں سے آن ٹپکے
اپنی موت کا کسی کو بھی پتا نہیں ہے
یہ حسن و جمال یہ جوانی اور یہ پیسا
ہے تجھ کو ناز جس پر وہ تیرا نہیں ہے
اپنی عصمت کو نہ کر نیلام سرِ بازار اے دل
یہ امانت ہے کسی کی تُو اس کی مالک نہیں ہے
بے پردہ رقص کئی جانے سے کچھ نہ ہو گا
گالیوں کے راستے پر چلنا راہِ جنت نہیں ہے
نہ بیچو اپنے ایماں کو چند ٹکوں پر
یہ بیچ دینے سے کچھ حاصل نہیں ہے
جو زینت کو کرے نیلام سرِ عام سمجھ لو
بے حیائی کے سوا اسے کچھ آتا نہیں ہے
احمد کسے سمجھانے کو چلے ہو تم بھی
یہ ایسی آگ ہے جس میں کوئی بچتا نہیں ہے
اویس احمد
No comments:
Post a Comment