Wednesday, 17 August 2022

اسے رب نے بنایا ہے یہ جسم اپنا نہیں ہے

 اسے رب نے بنایا ہے یہ جسم اپنا نہیں ہے

جسے اپنا سمجھ بیٹھی ہو وہ اپنا نہیں ہے

نہ جانے کب کہاں پہ کہیں سے آن ٹپکے

اپنی موت کا کسی کو بھی پتا نہیں ہے

یہ حسن و جمال یہ جوانی اور یہ پیسا

ہے تجھ کو ناز جس پر وہ تیرا نہیں ہے

اپنی عصمت کو نہ کر نیلام سرِ بازار اے دل

یہ امانت ہے کسی کی تُو اس کی مالک نہیں ہے

بے پردہ رقص کئی جانے سے کچھ نہ ہو گا

گالیوں کے راستے پر چلنا راہِ جنت نہیں ہے

نہ بیچو اپنے ایماں کو چند ٹکوں پر

یہ بیچ دینے سے کچھ حاصل نہیں ہے

جو زینت کو کرے نیلام سرِ عام سمجھ لو

بے حیائی کے سوا اسے کچھ آتا نہیں ہے

احمد کسے سمجھانے کو چلے ہو تم بھی

یہ ایسی آگ ہے جس میں کوئی بچتا نہیں ہے


اویس احمد

No comments:

Post a Comment