صفحات

Tuesday, 16 August 2022

پائیں مرے لب نعت کی رفعت تو عجب کیا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ذرہ کرے خورشید کی مدحت تو عجب کیا

پائیں مِرے لب نعت کی رفعت تو عجب کیا

یہ چاند، یہ سورج، یہ ستارے تہہِ افلاک

کرتے ہیں طوافِ درِ رحمت تو عجب کیا

جب قبر میں پُرسش کے لیے آئیں نکیرین

مل جائے بس اک نعت کی مہلت تو عجب کیا

جس دم وہؐ غلاموں کو پکاریں سرِ محشر

مجھ پر بھی رہے چشمِ عنایت تو عجب کیا

ویسے تو کہاں قابل بخشش، مِرے اعمال

لیکن وہؐ کریں میری شفاعت تو عجب کیا

ٹھہرے وہ بس اک اشکِ ندامت کے برابر

ہو خلد کی بس اتنی سی قیمت تو عجب کیا

جو ڈھانپ لے سب اپنے غلاموں کی خطائیں

مل جائے وہ اک چادرِ رحمتؐ تو عجب کیا


عقیل عباس جعفری

No comments:

Post a Comment