صفحات

Wednesday, 7 September 2022

نعمتیں دیکھ رہی تھیں بڑی حیرانی سے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


نعمتیں دیکھ رہی تھیں بڑی حیرانی سے

روزہ افطار کیا آپﷺ نے جب پانی سے

ہے کوئی اور زمانے میں دکھاؤ تو سہی

جو فقیری کو ملا سکتا ہو سلطانی سے

کیسے ان سخت مراحل سے وہ گزرے ہوں گے

جا کے اندازہ لگا دشت کی ویرانی سے

بیٹھ جاتا ہوں تِریؐ مدح سرائی کرنے

جب مِرا سامنا ہوتا ہے پریشانی سے

بادشاہوں کے مقدر بھی کہاں ایسے ہیں

جیسا منصب ملا سلمانؓ کو دربانی سے

داغ سب دھو دئیے اس نے مِری ناکامی کے

مجھے عزت جو ملی ان کی ثناخوانی سے

دسترس لوح و قلم تک تھی اگرچہ اس کی

زندگی جس نے گزاری نہیں آسانی سے


واجد امیر

No comments:

Post a Comment