عارفانہ کلام حمدیہ کلام
خدا کی ذات ہے سب کچھ، بشر وشر ہے فریب
یہ عقل وقل ہے دھوکا، اگر مگر ہے فریب
پھر ایک دن مِری آوارگی نے دیکھ لیا
سفر وفر ہے تماشا، نگر وگر ہے فریب
کُھلا ہے چادرِ ⭑⭑⭑نجمِ فلک الٹنے سے
یہ شمس ومس ہے دھبّا، قمر ومر ہے فریب
تمہارا حسن مِری آنکھ کی ضرورت ہے
یہ پیار ویار ہے جُھوٹا، نظر وظر ہے فریب
یہ صرف آنکھ کی پُتلی کا کھیل ہے، ورنہ
یہ رات وات ہے مایا، سحر وحر ہے فریب
لطیف علم کی برکت سے میں نے جان لیا
فسوں وسوں ہے کثافت، اثر وثر ہے فریب
یہ واہ واہ کی آواز سے کُھلا بابر
سخن وخن ہے تسلّی، ہنر ونر ہے فریب
فیض عالم بابر
No comments:
Post a Comment