بابا
غموں کی آگ جلائی تھی اپنے ہاتھوں سے
سو کیسے بُجھتی یہ مُخلصی کی باتوں سے
نصیب میرا تھا تاعمر نا رسا رہنا
کہ ممکن ہی نہ تھا دل میرا بسا رہنا
جہاں پہ خیمہ لگایا وفا محبت کا
گماں نہ تھا مکینوں کی اس کدورت کا
وہ ناگ بستی تھی اور ایسی زہر خُند کہ بس
جمی دلوں پہ تھی منافقت کی دُھند کہ بس
مگر یہ دُکھ کہ مجھ سے بھی نہ کہا اس کو
اداسی میری تھی مگر آپ نے سہا اس کو
مجھے ہے دُکھ کہ میری آنکھ تب اُٹھی ہی کیوں
جو سبب تھی کہ آپ جان گئے میں تھی بے سکوں
بھلا بتائیں کہ بیٹی کے دُکھ سے لڑتے ہیں؟
کہا تھا ناں کہ نہیں رہتے جو ایسا کرتے ہیں
اسی آسیب نے مجھ سے جُدا کیا ہے ناں
میرے دُکھ نے سب ہی کچھ فنا کیا ہے ناں
نبھائی ہر طور وفا مجھ سے دیا ہر اک سُکھ
کہا بھی تھا اگر آپ ہیں، نہیں کچھ دُکھ
جو وعدہ ساتھ کا تھا پھر وہی سچا نہیں کیا
میں کہہ رہی تھی ناں آپ نے اچھا نہیں کیا
سونیا کانجو
No comments:
Post a Comment