صفحات

Monday, 19 September 2022

ذکر حسن حسین سخن در سخن رہے

 عارفانہ کلام منقبت سلام


ذکرِ حسنؑ حسینؑ سخن در سخن رہے

زندہ غمِ حسینؑ کی یہ انجمن رہے

یا رب! مِری زبان  کو میثم شناس کر

سُولی پہ چڑھ کے ذکرِ علیؑ میں مگن رہے

الحاد، شر، نفاق، ولایت کی دشمنی 

پاکیزہ ہر مرض سے ہمارا وطن رہے

جاری فراتِ چشم ہو پیاسوں کی یاد میں 

اک بے نوا کی یاد میں زخمی بدن رہے 

کرتے نہیں شکست کے ماروں کا تذکرہ 

جاری لبوں پہ قصۂ فتحِ حسنؑ رہے 

مجھ کو علیؑ کے عشق میں دیوانہ کہتے ہیں 

میں چاہتا ہوں یہ میرا دیوانہ پن رہے

حُبدار کو نہ غم ہو سوائے غمِ حسینؑ

یا رب! ہرا بھرا یہ عزائی چمن رہے

عرفان! یہ دعا ہے خدا وند سے مِری

میرے لہو میں عشقِ علیؑ کی لگن رہے


عرفان حیدر

No comments:

Post a Comment