عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مرنے کے بعد بھی دے عشقِ نبیؐ کا موسم
میری لحد میں اُترے یہ روشنی کا موسم
دل کی لگی کا روگی ہوں لے چلو مدینے
آئے گا راس مجھ کو شہرِ نبیﷺ کا موسم
میں نذر کیا کروں گا دامن تہی ہے میرا
کب تک مجھے ڈسے گا یہ مفلسی کا موسم
اس ارضِ جان و دل میں یارب! ہمیش مہکے
بو بکرؓ کا، عمرؓ کا عثماںؓ، علیؓ کا موسم
جنت کی نعمتوں کا مُنکر ہے کون کافر؟
کیا واں بھی مل سکے گا اُنؐ کی گلی کا موسم
میری تمام نسلوں کے بھی سر کا تاج ٹھہرے
حُبِ نبیﷺ کی چَٹکی ہوئی چاندنی کا موسم
میں ریاض یاسیت کے پانی میں گِھر گیا ہوں
مِرے کاسۂ ہنر میں کھُلے خوشدلی کا موسم
ریاض حسین چودھری
No comments:
Post a Comment