صفحات

Monday, 19 September 2022

ناامیدی لہو رلاتی ہے

 سوز ناتمام


ایک پر ایک پانچ چھ اسٹول

اپنے کاندھے پہ گاڑ کر بڑھئی

شہر بھر میں گھماتا رہتا ہے

دل میں خوابوں کی چاندنی لے کر

گلیوں گلیوں پھراتا رہتا ہے

ناامیدی لہو رلاتی ہے

اسے پھر کو بہ کو پھراتی ہے

روز یہ کاروبار جاری ہے


انجم عباسی

No comments:

Post a Comment