صفحات

Saturday, 17 September 2022

کھل جائے مرا بخت بیدار مدینے میں

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کھل جائے مِرا بخت بیدار مدینے میں

ہو عید اگر میری اس بار مدینے میں

تقسیم نہیں کرتی جو عابد و عاصی کو

قدرت نے وہ رکھی ہے دیوار مدینے میں

فرشی نہیں عرشی بھی آتے ہیں سلامی کو

لگتا ہے محمدﷺ کا دربار مدینے میں

اس عالمِ غفلت میں اتنا ہے میسر کب

جتنا ہے ادب یارو درکار مدینے میں

کیا کم ہے تعارف یہ شہزاد مدینے کا

رہتے ہیں دو عالم کے سردار مدینے میں

اے کاش یہ آقاؐ سے صدیقؓ و عمرؓ کہہ دیں

شہزاد بھی آ جائے سرکارؐ مدینے میں


شہزاد مجددی 

No comments:

Post a Comment