میں نہ منت کشِ انگور ہوا خوب ہوا
چشمِ مخمور سے مخمور ہوا خوب ہوا
شعلۂ آہ مِرا نور ہوا خوب ہوا
ان کا گیسو شبِ دیجور ہوا خوب ہوا
نکہتِ زلف سے مسرور ہوا خوب ہوا
سانپ کے زہر سے مخمور ہوا خوب ہوا
سر جو قدموں پہ رکھا ہاتھ سے سرکا نہ دیا
عجز پر میرے وہ مغرور ہوا خوب ہوا
اب انا الحق کے کہے پر نہیں مارے جاتے
اس زمانے میں جو منصور ہوا خوب ہوا
پھنس گیا ہے کسی گیسو میں دلِ خانہ خراب
دشمنِ جانی سے میں دور ہوا خوب ہوا
اشک سے چشم کے ہم زخم جگر دھوتے ہیں
خونِ دل بادۂ انگور ہوا خوب ہوا
ہم نے دنیا ہی میں جنت کا مزا لوٹ لیا
مہرباں ہم پہ جو وہ حور ہوا خوب ہوا
بے حجابانہ گلے لگتے ہیں دور اور چلے
چشم بد دور وہ مخمور ہوا خوب ہوا
زانوئے زہرہ جبیناں پہ دھرا رہتا ہے
سر مِرا کاسۂ طنبور ہوا خوب ہوا
کیا ہی خوش گو ہے نسیم اہلِ سخن کہتے ہیں
باغ ہند آپ سے میسور ہوا خوب ہوا
نسیم میسوری
No comments:
Post a Comment