صفحات

Monday, 3 October 2022

یہ سنسار گر وہ کشادہ بناتا

 یہ سنسار گر وہ کشادہ بناتا


یہ سنسار گر ٭انفنٹ سے

وہ چند اک جریبیں کشادہ بناتا

تو شاید ہمیں ایک محفوظ سا ٭٭وینیو مل ہی جاتا

جہاں تم مجھے بے دھڑک ہو کے ملتی

بجا کہہ رہی ہو

سماوی و ارضی قوانین اندر

مِرا تم پہ ہرگز کوئی حق نہیں ہے

مگر یہ محبت بغاوت کا اسمِ دِگر ہے

سو میں یہ کہوں گا

کہ میرے سوا تم کسی کی نہیں ہو

اگر میں یہاں حاکمِ شہر ہوتا

تو اُس آدمی کو اراضی سے محروم کرتا

کہ جس کی زمیں کے درختوں پہ آیا ثمر

پک کے سڑنے لگے

مِری جان! میں ملکیت کے مروّج تصور سے بیزار ہوں

شے اُسی کی ہے جو اُس کا ہے قدرداں

سو برحق ہے وہ اُس کو حاصل کرے

جیسے میں ایک دن تجھ کو حاصل کروں گا

مگر ہم زمانے سے نظریں چُرا کے 

کہاں جائیں گے؟

یہ سنسار گر انفنٹ سے وہ تھوڑا کشادہ بناتا

تو شاید ہمیں ایک محفوظ سا وینیو مل ہی جاتا


سرمد سروش


٭انفنٹ؛ infinite

٭٭وینیو؛ venue

No comments:

Post a Comment