صفحات

Monday, 3 October 2022

کہاں وصال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں

 کہاں وصال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں

بس اس خیال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں

میں اس جگہ تھا جہاں روشنی کا مصدر ہے

وہاں جمال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں

میں ماہ و سال کے بستر سے گرد کیا جھاڑوں

کہ ماہ و سال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں

کوئی پکار کے کہتا تھا رات بسمل کو

ذرا سنبھال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں

یہ زندگی کا مسافر عجب نشے میں ہے

کہ اس کی چال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں

جہاں کمال کی نوبت ہو دھوم پر زاہد

وہاں زوال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں


انور زاہد

No comments:

Post a Comment