سنو ناں بابا
لاڈو رانی کی ایک کردار کا اپنے بابا کے نام خط
چلے بھی آؤ
غصہ چھوڑو
مان جاؤ
میری اکھڑتی ہوئی یہ سانسیں
تمہاری معافی کی منتظر ہیں
یہ پتھرائی ہوئی سی آنکھیں
تمہارے رستے کو تک رہی ہیں
سنو ناں بابا
اے بابا جانی
بس یہ آخری صدا ہے
آپ سے اک التجا ہے
اے میرے بابا
چلے بھی آؤ
میرے سر پہ ہاتھ پھیرو
میرے ماتھے پہ بوسہ دے دو
میری آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر
اس محبت کا مان رکھ لو
سنو ناں بابا
چلے بھی آؤ
غصہ چھوڑو
مان جاؤ
سنو ناں بابا، سنو ناں بابا
ثمین بلوچ
No comments:
Post a Comment