صفحات

Sunday, 2 October 2022

میں کھو گیا یہیں کہیں

 فلمی گیت 


میں کھو گیا یہیں کہیں 

جواں ہے رُت سماں حسیں 

کہاں ہے دل کسے پتہ 

کہاں ہوں میں خبر نہیں 

میں کھو گیا یہیں کہیں 


یوں کسی سے ہوا سامنا 

دل نے آواز دی تھامنا 

جانے کیا کہہ گئی وہ نگاہ نازنیں 

میں کھو گیا یہیں کہیں 


حال دل کہہ تو دوں جھوم کے 

پیار سے زلف کو چوم کے 

سوچتا ہوں مگر وہ خفا نہ ہو کہیں 

میں کھو گیا یہیں کہیں 


دھن جو رہی پیار کی 

ہو رہے گی مری وہ کبھی 

میرے دل میرے دل ٹھہر جا مچل نہیں 

میں کھو گیا یہیں کہیں


مجروح سلطانپوری

No comments:

Post a Comment