صفحات

Sunday, 2 October 2022

درد دل درد جگر دل میں جگایا آپ نے

 فلمی گیت 


دردِ دل، دردِ جگر، دل میں جگایا آپ نے

پہلے تو میں شاعر تھا، عاشق بنایا آپ نے

درد دل درد جگر دل میں ۔۔۔۔۔

آپ کی مدہوش نظریں کر رہی ہیں شاعری

یہ غزل میری نہیں، یہ غزل ہے آپ کی

میں نے تو بس وہ لکھا، جو کچھ لکھایا آپ نے

درد دل درد جگر دل میں ۔۔۔۔۔

کب کہاں سب کھو گئی، جتنی بھی تھی پرچھائیاں

بجھ گئی یاروں کی محفل ہو گئی تنہائیاں

کیا کیا شاید کوئی پردہ گرایا آپ نے

درد دل درد جگر دل میں ۔۔۔۔۔

اور تھوڑی دیر میں بس ہم جدا ہو جائیں گے

آپ کو ڈھونڈوں گا کیسے، راستے کھو جائیں گے

نام تک بھی تو نہیں، اپنا بتایا آپ نے

درد دل درد جگر دل میں ۔۔۔۔۔


گلزار

No comments:

Post a Comment