صفحات

Sunday, 2 October 2022

ہمیں کاش تم سے محبت نہ ہوتی

 فلمی گیت 


ہمیں کاش تم سے محبت نہ ہوتی

کہانی ہماری حقیقت نہ ہوتی


نہ دل تم کو دیتے نہ مجبور ہوتے

نہ دنیا نہ دنیا کے دستور ہوتے

قیامت سے پہلے قیامت نہ ہوتی

ہمیں کاش تم سے محبت نہ ہوتی


ہمی بڑھ گئے عشق میں حد سے آگے

زمانے نے ٹھوکر لگائی تو جاگے

اگر مر بھی جاتے تو حیرت نہ ہوتی

ہمیں کاش تم سے محبت نہ ہوتی


تمہی پھونک دیتے نشیمن ہمارا

محبت پہ احسان ہوتا تمہارا

زمانے سے کوئی شکایت نہ ہوتی

ہمیں کاش تم سے محبت نہ ہوتی


شکیل بدایونی

No comments:

Post a Comment