زندہ دل لوگ عجب سیلِ رواں ہوتے ہیں
آخری سانس تک فیض رساں ہوتے ہیں
زندگی نت نئے اطوار میں ملتی ہے انہیں
عمر ڈھل جائے مگر بوڑھے کہاں ہوتے ہیں
جو بھڑکتے ہیں بکھر جاتے ہیں ذروں کی طرح
پُر سکوں رہتے ہیں جو، کوہِ گراں ہوتے ہیں
غم کی چِنگاری سُلگتی ہے، دُھواں اُٹھتا ہے
یونہی آنکھوں سے کہاں اشک رواں ہوتے ہیں
کچھ تو چہرے کی لکیروں سے بھی پڑھنا ہو گا
درد لفظوں میں کہاں سارے بیاں ہوتے ہیں
کم وہاں پاؤ گے ایماں کی حرارت والے
ایسی بستی کہ جہاں اونچے مکاں ہوتے ہیں
بات کرنی ہو کسی سے تو سلیقے سے کرو
اپنی دنیا میں سبھی شاہِ جہاں ہوتے ہیں
جن کو سنتے ہی بصیرت کو جِلا ملتی تھی
اب گھروں میں وہ کہاں قصے بیاں ہوتے ہیں
جن گھروں میں نہیں جلتے ہیں محبت کے چراغ
گھر کہاں ہوتے ہیں، وہ خالی مکاں ہوتے ہیں
عمر لگ جاتی ہے اک گھر کو بنانے میں یہاں
گھر بِکھر جاتے ہیں جب بچے جواں ہوتے ہیں
پِیر صاحب سے گلے ملنا سنبھل کر بسمل
جامۂ پِیر میں اب پِیر مُغاں ہوتے ہیں
خورشید احمد بسمل
No comments:
Post a Comment