جسے بھی دیکھو سیلِ بلا کی زد میں ہے
تمام شہر کسی بد دعا کی زد میں ہے
میں اس کی سمت مخالف میں چل رہا ہوں مگر
یہ راستہ بھی اسی نقشِ پا کی زد میں ہے
ہماری سانس کی دوری کا اعتبار ہی کیا
کہ یہ چراغ مسلسل ہوا کی زد میں ہے
نہ جانے خود سے یہ کیا مانگنے کو آ پہنچا
درِ گدا بھی صدائے گدا کی زد میں ہے
مرغوب حسین طاہر
No comments:
Post a Comment