دل میں ہمارے آپ سمائیں کسی طرح
در پردہ سینے سے تو لگائیں کسی طرح
فرقت کی شب میں ہم جگر و دل سے تنگ ہیں
آتا ہے چین دہنے نہ بائیں کسی طرح
قتل کر کے مجھ ایسے کفِ افسوس ملے
طائرِ رنگِ حنا اڑ گیا جگنو کی طرح
بھولے ہیں وہ ہماری وفائیں تو بھول جائیں
بھولیں گے ہم نہ ان کی جفائیں کسی طرح
شبِ فرقت مِرے رونے سے ہے برسات کی رات
چرخ سے تارے اڑے جاتے ہیں جگنو کی طرح
قدر بلگرامی
No comments:
Post a Comment