صفحات

Saturday, 1 October 2022

نہ جانے کون سا بار سفر زیادہ ہے

  نہ جانے کون سا بارِ سفر زیادہ ہے

گماں گزرتا ہے کاندھوں پہ سر زیادہ ہے

پھلوں میں پچھلے برس بھی مٹھاس تھوڑی تھی

شجر پہ اب کے برس بھی ثمر زیادہ ہے

پڑوسیوں پہ بھی لوگوں کو اعتبار نہیں

خدا کے خوف سے دنیا کا ڈر زیادہ ہے 

جبلتیں ہی رہی ہیں ضمیر پر حاوی

فصیل شہر سے حدِ نظر زیادہ ہے

میں لوح وقت پہ لکھا ہوں کس قرینے سے

نہ کوئی زیر نہ کوئی زبر زیادہ ہے

تمام عمر ہی گزری اسی طرح لیکن

دباؤ ان دنوں کچھ ذہن پر زیادہ ہے 

نسیم! جس کی توقع تھی بادشاہوں کو

وہ چہل پہل فقیروں کے گھر زیادہ ہے


نسیم عباسی

No comments:

Post a Comment