صفحات

Monday, 3 October 2022

دل کی بات کرنے کے جرم میں

 سبین کے نام


دل کی بات کرنے کے جرم میں

گولیوں نے اسے مار ڈالنا چاہا

لیکن وہ زندہ ہو گئی

اور ہم سب مر گئے

زندہ رہنا بہت مشکل ہوتا ہے

جان دینی پڑتی ہے اس کے لیے

مرنا روز کا معمول ہے

جن لوگوں نے تمہیں مار کر زندہ کیا

وہ بھول بیٹھے

کہ مر کر زندہ رہنے والے لوگ زیادہ

خطرناک ہوتے ہیں

وہ سب کی آواز بن جاتے ہیں

ان کے لفظوں کا کوئی خون نہیں بہا سکتا

ان کی جدوجہد قید نہیں ہو پاتی

وہ سوچ کی خوشبو ہوتے ہیں

اب یہ گولیاں قاتلوں کا چین اڑا دیں گی

یہ گولیاں ان قاتلوں کو روز قتل کریں گی

بس فرق اتنا ہو گا

کہ ان گولیوں سے

قاتل مر جائیں گے

اس کی طرح زندہ نہیں ہو پائیں گے


امر پیرزادو

No comments:

Post a Comment