سبین کے نام
دل کی بات کرنے کے جرم میں
گولیوں نے اسے مار ڈالنا چاہا
لیکن وہ زندہ ہو گئی
اور ہم سب مر گئے
زندہ رہنا بہت مشکل ہوتا ہے
جان دینی پڑتی ہے اس کے لیے
مرنا روز کا معمول ہے
جن لوگوں نے تمہیں مار کر زندہ کیا
وہ بھول بیٹھے
کہ مر کر زندہ رہنے والے لوگ زیادہ
خطرناک ہوتے ہیں
وہ سب کی آواز بن جاتے ہیں
ان کے لفظوں کا کوئی خون نہیں بہا سکتا
ان کی جدوجہد قید نہیں ہو پاتی
وہ سوچ کی خوشبو ہوتے ہیں
اب یہ گولیاں قاتلوں کا چین اڑا دیں گی
یہ گولیاں ان قاتلوں کو روز قتل کریں گی
بس فرق اتنا ہو گا
کہ ان گولیوں سے
قاتل مر جائیں گے
اس کی طرح زندہ نہیں ہو پائیں گے
امر پیرزادو
No comments:
Post a Comment