صفحات

Monday, 3 October 2022

پرندے ہنس رہے ہوں گے

 پرندے ہنس رہے ہوں گے


پرندے ہنس رہے ہوں گے 

زمیں سے دور جا کر دیکھتے ہوں گے

کہ ویرانوں میں کتے بھونکتے ہیں 

اور انسانوں کو دیواروں کے اندر قید کر کے 

سانس لینے کی فضا سے دور رکھا ہے 

ہوا اور روشنی روزن سے اندر جھانکنے کے واسطے 

اونچی فصیلوں سے گزرنے کی تمنا میں 

کسی آندھی کے آنے کی دعائیں کر رہی ہیں 

مگر یہ حبس جس میں

سانس لینے کی سزا بھی قبر کا اعلان نامہ ہے 

ابھی سڑکوں پہ پہرے دار بن کر 

خوف کا مجمع لگائے گا

پرندے ہنس رہے ہوں گے 


اقبال نوید

No comments:

Post a Comment