پرندے ہنس رہے ہوں گے
پرندے ہنس رہے ہوں گے
زمیں سے دور جا کر دیکھتے ہوں گے
کہ ویرانوں میں کتے بھونکتے ہیں
اور انسانوں کو دیواروں کے اندر قید کر کے
سانس لینے کی فضا سے دور رکھا ہے
ہوا اور روشنی روزن سے اندر جھانکنے کے واسطے
اونچی فصیلوں سے گزرنے کی تمنا میں
کسی آندھی کے آنے کی دعائیں کر رہی ہیں
مگر یہ حبس جس میں
سانس لینے کی سزا بھی قبر کا اعلان نامہ ہے
ابھی سڑکوں پہ پہرے دار بن کر
خوف کا مجمع لگائے گا
پرندے ہنس رہے ہوں گے
اقبال نوید
No comments:
Post a Comment