صفحات

Sunday, 2 October 2022

ستارے چپ ہیں کہ نغمہ سرا سمندر ہے

 ستارے چُپ ہیں کہ نغمہ سرا سمندر ہے

شبِ خموش کے دل کی صدا سمندر ہے

سکوتِ لب کو صداؤں کا پیشرو سمجھو

کہ رُود بار کے آگے کھلا سمندر ہے

وہ دیکھتا ہے مِرے اضطراب کو ہنس کر

میں تیز رو ہوں وہ ٹھہرا ہوا سمندر ہے

مہ‌ و نجوم دِکھاتے ہیں آئینہ اس کو

فلک کے سامنے چہرہ نما سمندر ہے

مِٹا چلے ہیں مسافت کا نقش اہلِ طلب

ہوا سروں میں ہے اور زیر پا سمندر ہے

نظر میں صُورت‌ِ ساحل ابھی نہیں آئی

مِرے سفر کا ہر اک مرحلہ سمندر ہے


زاہد فارانی

No comments:

Post a Comment