صفحات

Sunday, 2 October 2022

من میں گر ہو چین سب اچھا لگتا ہے

 من میں گر ہو چین سب اچھا لگتا ہے

ورنہ، یہ سنسار تو کچرا لگتا ہے

پھن کھولے ناگوں نے گھیرا ڈالا ہے

جان پہ کچھ بن آئی، ایسا لگتا ہے

سچ بولوں تو شہر میں دُرگت بنتی ہے

سب کہتے ہیں؛ بہکا بہکا لگتا ہے

سُوکھ گئے وہ پیڑ جو سایہ دیتے تھے

دُور تلک اب صحرا صحرا لگتا ہے

پایا ہو دھنوان تو پایا ہے، ورنہ

ایرا غیرا، نتھو خیرا لگتا ہے

چپہ چپہ دھرتی کا تو بانٹ لیا

ہو گا اب آکاش پہ جھگڑا لگتا ہے

کانٹوں میں رس گھولے دل کو چُھو لے جو

شاعر کا بس شعر وہ اچھا لگتا ہے

ان کا جیون بھی کیا جیون ہے بسمل

جن کو جیون کھیل تماشہ لگتا ہے


خورشید احمد بسمل

No comments:

Post a Comment