دو قطعات
تمہارے واسطے کچھ بھی نہیں بچھڑ جانا
کہ جانتے نہیں تم سانس کا اکھڑ جانا
درختوں کا ہے الگ درد اور میرا الگ
ہمارے درمیاں بس مشترک ہے جھڑ جانا
اس ایک شخص سے منسوب میری ہریالی
یہ جس نے لکھا ہتھیلی پہ؛ سُوکھ سڑ جانا
تیمور بلال
شہر میں آخری دن تھا میرا، گھر آنا تھا
ہائے، اس پگلی نے بھی آج نظر آنا تھا
اتنی آسانی سے ہی جانے دیا تم نے اسے
بات کرنی تھی بغاوت پہ اتر آنا تھا
تیمور بلال
No comments:
Post a Comment