Saturday, 15 October 2022

تمہارے واسطے کچھ بھی نہیں بچھڑ جانا

دو قطعات


 تمہارے واسطے کچھ بھی نہیں بچھڑ جانا

کہ جانتے نہیں تم سانس کا اکھڑ جانا

درختوں کا ہے الگ درد اور میرا الگ

ہمارے درمیاں بس مشترک ہے جھڑ جانا

اس ایک شخص سے منسوب میری ہریالی

یہ جس نے لکھا ہتھیلی پہ؛ سُوکھ سڑ جانا


تیمور بلال


شہر میں آخری دن تھا میرا، گھر آنا تھا

ہائے، اس پگلی نے بھی آج نظر آنا تھا

اتنی آسانی سے ہی جانے دیا تم نے اسے

بات کرنی تھی بغاوت پہ اتر آنا تھا


تیمور بلال

No comments:

Post a Comment