میں سرخرو رہوں گا
نہ دار و زنداں سے ڈرنے والا
میں حق کی منزل کو چلنے والا
میں مال و زر کا، ہوس کا باغی
میں تنگ گوشۂ قفس کا باغی
بہشت میری یہ میری وادی
ہے میرا نعرہ نعرۂ آزادی
بلند اپنا علم کروں گا
نہیں بِکوں گا میں کٹ مروں گا
میں جرأتوں کے فلک کا تارا
میں روزِ روشن کا استعارا
لہو بہا جو بھُلا نہ دینا
جو خواب دیکھے جلا نہ دینا
سو تم یہ عزم و ارادہ کر لو
میرے سپاہی یہ وعدہ کر لو
میں سرخرو تھا میں سرخرو ہوں
ہمیشہ میں سرخرو رہوں گا
ثمن ابرار
No comments:
Post a Comment