صفحات

Monday, 3 October 2022

ساکن ہے کوئی اور وطن اور کسی کا

 ساکن ہے کوئی اور وطن اور کسی کا

یہ روح کسی کی ہے بدن اور کسی کا

سرخی ہے کہو کی مِرے ہر سرو و سمن میں

پڑھتا ہے قصیدہ یہ چمن اور کسی کا

تسکین کا باعث ہے کسی اور کا پہلو

احساس دلاتی ہے چبھن اور کسی کا

آئینہ سمجھتے ہیں تجھے سب یہ الگ بات

ہے تجھ میں مگر آئینہ پن اور کسی کا

یہ پیار کا جذبہ تِرے کچھ کام تو آئے

میرا نہیں بنتا ہے تو بن اور کسی کا

کہتے ہیں سخنور مجھے نسبت سے تِری سب

رہتا ہے مِرے لب پہ سخن! اور کسی کا


عبدالوہاب سخن

No comments:

Post a Comment