صفحات

Sunday, 16 October 2022

میرے آس پاس تیرے آس پاس

 گیت


میرے ہمراہی سنو آؤ چلیں چاند کے پار

ایسی دنیا میں کہیں دور جس میں

نہ غم ہو نہ آنسو ہوں

نہ آہیں ہوں کہیں اور کچھ ہو

میرے آس پاس، تیرے آس پاس

میرے آس پاس، تیرے آس پاس


کبھی تنہا جو ہوئی تم

کسی جیون کے سفر میں

میری آواز سنو گی

کہیں میری دھڑکن میں

زندگی مجھ کو کبھی 

تجھ سے جدا بھی کر دے

بند آنکھوں کے دریچوں میں

تجھے دیکھوں، تجھے دیکھوں گا

میرے سائے کی طرح

تم تو رہو گی ہر پل میں

میرے آس پاس، تیرے آس پاس

میرے آس پاس، تیرے آس پاس


خاور کیانی

No comments:

Post a Comment