مِرے سکون کی دنیا میں اضطرار نہیں
نہیں، نہیں، مجھے اب تیرا انتظار نہیں
وہ بے وفائی کے قائل میں جاں نثاری کا
کسی کو اپنی طبیعت پہ اختیار نہیں
سمجھ سکے کوئی کیا میرے ظرف عالی کو
پیے ہیں مے کدے لیکن ذرا خمار نہیں
تِری نگاہ سے گر کر یقیں ہوا مجھ کو
جہاں میں کوئی کسی کا بھی غمگسار نہیں
مِرے خفیف تبسم پہ بھولنے والو
میں کامگار نہیں ہوں میں کامگار نہیں
ہیں دل سے ترکِ محبت کے مشورے لیکن
تمہیں بھلا بھی سکوں گا یہ اعتبار نہیں
معاملے میں محبت کے بد گمان ہوں راج
وہ کیا ہیں مجھ کو خدا کا بھی اعتبار نہیں
بلدیو راج
No comments:
Post a Comment