پتھر نہ کوئی دھول نہ کانٹا دکھائی دے
یہ حالت جنون بھی تماشا دکھائی دے
ہم نے نشان قبر کو آئینہ کر دیا
شاید کسی کو وقت کا چہرہ دکھائی دے
ایسا نہ ہو کہ شوق سے محروم ہی رہیں
جو کچھ ہماری آنکھ نے دیکھا دکھائی دے
ہو کر بھی کچھ نہیں ہوں اگر ہوں تو اے خدا
مجھ کو مِرے وجود کا ہونا دکھائی دے
مانا کہ ڈوبتے کو سہارہ بہت ہے یہ
ابھروں کسی بھی طور تو تنکا دکھائی دے
اختر چکور دل کے مِرے محو رقص ہیں
اک ماہتاب جھیل میں اترا دکھائی دے
شیراز اختر
No comments:
Post a Comment