صفحات

Sunday, 16 October 2022

پتھر نہ کوئی دھول نہ کانٹا دکھائی دے

پتھر نہ کوئی دھول نہ کانٹا دکھائی دے

یہ حالت جنون بھی تماشا دکھائی دے

ہم نے نشان قبر کو آئینہ کر دیا

شاید کسی کو وقت کا چہرہ دکھائی دے

ایسا نہ ہو کہ شوق سے محروم ہی رہیں

جو کچھ ہماری آنکھ نے دیکھا دکھائی دے

ہو کر بھی کچھ نہیں ہوں اگر ہوں تو اے خدا

مجھ کو مِرے وجود کا ہونا دکھائی دے

مانا کہ ڈوبتے کو سہارہ بہت ہے یہ

ابھروں کسی بھی طور تو تنکا دکھائی دے

اختر چکور دل کے مِرے محو رقص ہیں

اک ماہتاب جھیل میں اترا دکھائی دے


شیراز اختر

No comments:

Post a Comment