صفحات

Sunday, 6 November 2022

بیٹھے بیٹھے یاد پھر بھولا فسانہ آ گیا

بیٹھے بیٹھے یاد پھر بُھولا فسانہ آ گیا

سامنے آنکھوں کے وہ گزرا زمانہ آ گیا

سازِ دل پھر چھڑ گیا، اب کان پھر بجنے لگے

آج پھر لب پر محبت کا ترانہ آ گیا

بحرِ دل سے اٹھ رہی ہیں پھر گھٹائیں مست مست

جیسے پھر بارانِ الفت کا زمانہ آ گیا

پھر نظر آنے لگی ہر شاخِ گُل ساغر بکف

ساقیٔ فطرت کو پھر پینا پلانا آ گیا

پھر لُٹاتی ہے زرِ گُل ہر طرف بادِ بہار

ہاتھ میں جیسے کہ قُدرت کا خزانہ آ گیا

بن سکھائے سیکھ لی اس نے ادائے دلبری

خود بخود مجھ کو نیازِ عاشقانہ آ گیا

دیکھ کر پندارِ انساں پر فلک کو خندہ زن

آج مجھ کو اپنے غم پر مُسکرانا آ گیا

کر چکا تھا ترک میں شعر و سخن سے واسطہ

آج پھر لب پر کلامِ والہانہ آ گیا

اللہ اللہ عشق کی مجبوریاں لاچاریاں

حضرتِ فضلی کو بھی باتیں بنانا آ گیا


سید فضل کریم فضلی

No comments:

Post a Comment