صفحات

Sunday, 6 November 2022

جہاں میں ڈھونڈنے والے کو کیا نہیں ملتا

جہاں میں ڈھونڈنے والے کو کیا نہیں مِلتا

مگر ہمیں دلِ بے مُدعا نہیں ملتا

کہاں ہیں وقتِ مصیبت قرار و صبر و شکیب

رفیق کوئی مزاج آشنا نہیں ملتا

بنا رہے ہیں وہ دل میں ہمارے گھر اپنا

کہ اس سے بڑھ کے مکاں دوسرا نہیں ملتا

غرورِ زندگی مستعار بے جا ہے

کسی کو مرہمِ زخمِ قضا نہیں ملتا

فراغ و صحبتِ احباب و یار و عہدِ شباب

کہاں گئے؟ کہ کسی کا پتا نہیں ملتا

بشر کو عاقبتِ کار کا خیال رہے

بغیر نیک عمل کے خُدا نہیں ملتا

ہجوم غم سے مِرے دل میں کیا خُوشی آئے

یہ بِھیڑ ہے کہ کہیں راستا نہیں ملتا

تمام کوچۂ جاناں کی خاک چھان آئے

کہیں غریب دلِ مُبتلا نہیں ملتا

ہوا ہے، سرد زمانے سے دل یہ اے عشرت

خوشی میں غم میں کسی میں مزا نہیں ملتا​


عشرت لکھنوی

خواجہ محمد عبدالرؤف

No comments:

Post a Comment