صفحات

Monday, 7 November 2022

دیکھ مسافر تیرا جو کچھ بھی ہے مجھ میں وہ سب لے جا

 دیکھ مسافر

تیرا جو کچھ بھی ہے مجھ میں

وہ سب لے جا

بوسیدہ اس بنجر تن میں سانسیں ہیں ناں

سانسیں لے جا

ہجر زدہ ان خواب کشیدہ آنکھوں میں

جو خواب اکھٹے دیکھے ہوئے تھے

بند پڑے ہیں

خواب وہ دے جا

آنکھیں لے جا

تیرے نام کا وِرد کیا تو

دِیپ جلے تھے

ان جلتے ہوئے خوابیدہ دیوں کی لو میں

ایک سِسکتا دل رکھا ہے

وہ تنہائی کا مارا ٹوٹا پھوٹا میرا دل بھی لے جا

پرچھتی پر نیند کے کچھ مرغولے سے ہیں

اور ان نیند کے مرغولوں کے ساتھ ہی میں نے

زیست کو آساں کرنے کے کچھ ڈھب رکھے ہیں

وہ ڈھب لے جا

دیکھ مسافر

میں نے جی کر کیا کرنا ہے

تُو سب لے جا


جینا قریشی

No comments:

Post a Comment