دیکھ مسافر
تیرا جو کچھ بھی ہے مجھ میں
وہ سب لے جا
بوسیدہ اس بنجر تن میں سانسیں ہیں ناں
سانسیں لے جا
ہجر زدہ ان خواب کشیدہ آنکھوں میں
جو خواب اکھٹے دیکھے ہوئے تھے
بند پڑے ہیں
خواب وہ دے جا
آنکھیں لے جا
تیرے نام کا وِرد کیا تو
دِیپ جلے تھے
ان جلتے ہوئے خوابیدہ دیوں کی لو میں
ایک سِسکتا دل رکھا ہے
وہ تنہائی کا مارا ٹوٹا پھوٹا میرا دل بھی لے جا
پرچھتی پر نیند کے کچھ مرغولے سے ہیں
اور ان نیند کے مرغولوں کے ساتھ ہی میں نے
زیست کو آساں کرنے کے کچھ ڈھب رکھے ہیں
وہ ڈھب لے جا
دیکھ مسافر
میں نے جی کر کیا کرنا ہے
تُو سب لے جا
جینا قریشی
No comments:
Post a Comment