Saturday, 26 November 2022

ہجر کی بھیگی ہوئی رات اداسی اور میں

ہِجر کی بھیگی ہوئی رات اُداسی اور میں

آج پھر روئے ہیں برسات اداسی اور میں

ہو کے مجبور کیا اس کو حوالے اس کے

ایسے آئے ہیں مِرے ہات اداسی اور میں

چند آنسو مِری آنکھوں سے نکل آتے ہیں

جب بھی کرتے ہیں تِری بات اداسی اور میں

بیٹھ جاتے ہیں تِری یاد لیے ٹیرس پر

روز کرتے ہیں مُلاقات اداسی اور میں

جب کوئی اور میسّر نہیں ہوتا مجھ کو

تب بھی ہوتے ہیں مِرے ساتھ اداسی اور میں


مرزا فرحان عارض

No comments:

Post a Comment