جس نے بھی تِرے آگے دامن کو پسارا ہے
قدرت نے تِری اس کی سیرت کو نکھارا ہے
اُڑتی ہے پتنگ اس کی بے ڈور فضاؤں میں
جو رب کی اطاعت میں ہر لمحہ گُزارا ہے
جاتے ہوئے میکش نے واعظ سے کہا ہنس کر
نیت کی خرابی میں پوشیدہ خسارا ہے
فُرقت میں تڑپتا ہے بِسمل کی طرح ہر دم
ہونٹوں پہ فقط اس کے بس نام تمہارا ہے
بتلائیں تمہیں کیسے دل چیر کے ہم اپنا
جو حال تمہارا ہے، وہ حال ہمارا ہے
ماں باپ سے جب اپنے اولاد کرے نفرت
آثارِ قیامت کا سمجھو یہ اشارا ہے
کانٹوں سے گھرے گُل کو ہنستے ہوئے دیکھا تو
یہ اہلِ چمن بولے؛ کیا خوب نظارا ہے
ناسُور نہ بن جائے باتیں تِری بے پر کی
تُو دے جو محبت سے ہر زخم گوارا ہے
تعریف کروں اس کی جتنی بھی ہے کم حیرت
گیسو کو تِرے جس نے فُرصت سے سنوارا ہے
خلیل حیرت
No comments:
Post a Comment