صفحات

Friday, 4 November 2022

کچھ ایسے بے خوف و بے خطر کے لیے نہیں ہیں

 کچھ ایسے بے خوف و بے خطر کے لیے نہیں ہیں 

رعایتیں تم سے ہمسفر کے لیے نہیں ہیں

کوئی سنی ان سنی بھی کرنی پڑے گی تم کو

تمام باتیں ادھر ادھر کے لیے نہیں ہیں

ہمیں نہیں چومنے دئیے تو خیال آیا

کہ پریوں کے گال جادوگر کے لیے نہیں ہیں

ہمارے ہاتھوں میں صرف پتھر ہیں ٹھیک سمجھے

مگر کسی شاخ بے ثمر کے لیے نہیں ہیں

جدائی کی راہ چاہے پھولوں بھری ہو پھر بھی

یہ مخملیں پاؤں اس سفر کے لیے نہیں ہیں

کوئی بھی دروازہ کھول سکتا ہے دھڑکنوں پر

یہ دستکیں صرف ایک در کے لیے نہیں ہیں


شاہد نواز

No comments:

Post a Comment