صفحات

Friday, 4 November 2022

اپنی رنگین کوئی شام نہیں کر سکتا

 اپنی رنگین کوئی شام نہیں کر سکتا 

چھوڑ کر میں تجھے آرام نہیں کر سکتا 

میں نے اک عمر گنوا دی ہے غزل کہنے میں

میرے جیسا تو کوئی کام نہیں کر سکتا 

تیری آنکھوں کا لیا کرتا ہوں بوسا ہر دن 

مجھ کو مدہوش کوئی جام نہیں کر سکتا 

عشق کو آپ عبادت کی نظر سے دیکھو

عشق انسان کو گمنام نہیں کر سکتا

خود کو برباد کیا میں نے خطا ہے میری 

میں تیرے سر کوئی الزام نہیں کر سکتا

میں نے ہاتھوں پہ تیرا نام نہیں لکھا ہے 

میں تِرے نام کو بدنام نہیں کر سکتا

میرا دل میرے لیے کعبہ و کاشی ہے دل  

میں یہ جاگیر تیرے نام نہیں کر سکتا


دل سکندر پوری 

No comments:

Post a Comment